ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 24گھنٹے میں آزاد کے گھر G-23 رہنماؤں کی دوسری میٹنگ، صحافیوں کو بلایا گیا، کوئی بڑا فیصلہ لینے کا امکان

24گھنٹے میں آزاد کے گھر G-23 رہنماؤں کی دوسری میٹنگ، صحافیوں کو بلایا گیا، کوئی بڑا فیصلہ لینے کا امکان

Fri, 18 Mar 2022 10:27:52    S.O. News Service

کانگریس ٹوٹنے کے قریب؟ جی23-کے دباؤ نے دکھایااپنا اثر؟سونیا نے کی آزاد سے بات، فاصلے ختم کرنے کی کوشش

نئی دہلی،18؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) 5ریاستوں میں ذلت آمیز شکست کے بعدG-23 لیڈر کانگریس ہائی کمان کے خلاف مسلسل محاذ کھول رہے ہیں۔ جی۔23کے رہنماؤں کا دوسرا اجلاس 24گھنٹوں میں غلام نبی آزاد کے گھر ہونے جا رہا ہے۔ اجلاس کیلئے صحافیوں کو بھی بلایا گیا ہے۔

مانا جا رہا ہے کہ G-23کے رہنما کوئی بڑا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ 5ریاستوں کے انتخابی نتائج کے بعد آزاد کے گھر پر یہ تیسری میٹنگ ہے۔ پہلا اجلاس 11مارچ کو ہوا تھا جبکہ دوسرا اجلاس چہارشنبہ کو بلایا گیا تھا۔دوسری جانب G-23کے ذریعہ پارٹی قیادت پر جو دباؤ ڈالا گیا تھا، وہ اب اپنا اثر دکھا نے لگا ہے۔

کانگریس صدر سونیاگاندھی کے بلانے پر غلام نبی آزاد نے سونیا اور راہل گاندھی دونوں سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقاتیں کیں اور اپنی پوری بات رکھی۔مانا جا رہا ہے کہ کانگریس ہائی کمان نے پارٹی میں کسی قسم کی پھوٹ کے امکان کو دور کرنے اور آزاد سے رابطہ کر کے فاصلے ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

سونیا گاندھی کی غلام نبی آزاد کے ساتھ بات چیت بہت اہم ہے کیونکہ G-23 اور کانگریس قیادت کے درمیان رابطے کی کمی مختلف میڈیا رپورٹس کا باعث بنی ہے۔ کچھ رپورٹس میں پارٹی میں پھوٹ پڑنے کی بات کہی گئی ہے، لیکن اگر کانگریس ہائی کمان کا منحرف لوگوں سے براہ راست رابطہ جاری رہتا ہے، تو ماننا چاہیے کہ آنے والے دنوں میں پارٹی کے اندر سب کچھ پرسکون ہوسکتا ہے۔

مانا جا رہا ہے کہ آزاد سے ملاقات کے بعد سونیا گاندھی دوبارہ کانگریس ورکنگ کمیٹی(سی ڈبلیو سی)کی میٹنگ بلا سکتی ہیں۔یہ خبر بھی آرہی ہے کہ جی۔23کے لیڈر اور ہریانہ کے سابق وزیراعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا نے اس ہلچل کے درمیان جمعرات کو کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے ساتھ آج ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

اس کے بعد انہوں نے غلام نبی آزاد کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ مسٹر ہڈا کل شام غیرمطمئن گروپ کے لیڈر غلام نبی آزاد کے گھر پر ہوئی میٹنگ میں بھی شامل ہوئے تھے۔ان لیڈرو ں نے پانچ ریاستوں میں انتخابی شکست کی بات کانگریس کے اعلیٰ پالیسی ساز ادارے ورکنگ کمیٹی کی چار دن پہلے ہوئی میٹنگ بھی اٹھاتے ہوئے قیادت میں تبدیلی کی مانگ کی تھی لیکن اس میٹنگ میں بیشتر لیڈروں نے محترمہ سونیا گاندھی کے عبوری صدر بنے رہنے کی حمایت کی تھی۔

اس درمیان گروپ۔23 کے لیڈر کپل سبل نے ایک اخبار کو دیئے انٹرویو میں کہاکہ ا ب گاندھی کو صدر کے عہدہ سے باہر ہونا چاہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملک ارجن کھرگے نے مسٹر سبل کے بیان کو پارٹی کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا تو چھتیس گڑھ کے سینئر کانگریسی لیڈر ٹی ایس سنگھ دیو نے آج مسٹر سبل کو پارٹی سے باہر کرنے کی مانگ کی۔


Share: